ٹاور آف سائلنس Episode No 1
آج قبرستان سے گزرتے ہوئے اسے عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے وہاں خاموش قبروں کے درمیان اس کے اندر مچتا شور کچھ دیر کے لیے تھم گیا ہو۔
وہ بھاری قدموں کے ساتھ اپنے گھر تک پہنچی تھی۔ کمرے میں آتے ہی وہ منہ کے بل بیڈ پر گری۔ قریب ہاتھ مار کر ایک تکیہ اٹھایا اور اپنے چہرے پر رکھ لیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں۔
---
"پاپا، پاکستان کے لیے تیاری ہو گئی ہے؟"
شرین نے پُرجوش لہجے میں فرحان سے پوچھا۔
"ہاں، بس مکمل ہے۔"
"پاپا، مجھے تو بہت زیادہ ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے۔"
"اچھا، ایسا ہے؟"
"جی، کتنے سال ہو گئے ہیں دادی جان اور ایلیف سے ملے۔"
"یہ تو ہے۔"
فرحان نے شرین کی اس بات پر اتفاق کیا تھا۔
"Good morning!"
بہرام نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
"Good morning۔"
نازمین، جو میز پر کھانا رکھ رہی تھی، بہرام کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولی،
"تم رات میں سوئے نہیں، بہرام؟"
ان کے سوال پر بہرام کچھ بولتا ہی کہ شرین بول پڑی۔
"ماما، کیسی بات کر رہی ہیں آپ؟ اب لگتا ہے کہ بھائی سو پائیں گے؟ ان کو تو اب نیند ہی ایلیف کے گھر پہنچ کر آئے گی۔"
شرین نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو فرحان اور نازمین زیرِ لب مسکرا دیے۔
"ہاں، یہ بات تو تم نے بالکل ٹھیک کہی ہے۔"
بہرام نے انتہائی پُرسکون انداز میں کہا۔
"بہرام، تمہاری پیکنگ ہو گئی ہے؟"
نازمین نے بیٹھتے ہوئے بہرام سے پوچھا۔
"جی ماما، لیکن ابھی کچھ چیزیں ہیں جو رہتی ہیں۔"
"کہتے ہو تو میں تمہاری مدد کر دیتی ہوں۔"
نازمین نے بہرام کے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے اسے پیشکش کی، تو بہرام نے ان کی بات پر نفی میں سر ہلا دیا۔
---
"ایلیف، آ جاؤ بیٹا، کھانا کھا لو۔"
"جی دادو، آ رہی ہوں۔"
وہ گارڈن میں پودوں کو پانی دینے کے بعد وہیں بیٹھ کر کسی غم خار کی موجودگی کو محسوس کر رہی تھی۔
وہ گارڈن انتہائی خوبصورت تھا، جس میں ہر وہ پھل اور پھول موجود تھا جو ایلیف کو پسند تھا۔
وہ گارڈن بہرام نے اس کے لیے بنایا تھا۔ وہاں موجود ہر پتا اسے بہرام کی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔
"Good morning، دادو۔"
"Good morning، میرا بچہ۔"
انہوں نے ایلیف کو انتہائی پیار سے جواب دیا۔
ایلیف اور دادی کھانے سے محظوظ ہو رہی تھیں کہ اچانک دادی نے ایلیف سے کہا،
"میں نے تمہیں بتایا نہیں، میری بات ہوئی تھی بہرام سے۔ وہ لوگ کل آ رہے ہیں۔"
دادی کی یہ بات سنتے ہی ایلیف کے حلق سے نوالہ بمشکل اترا۔
"دادو، کیا؟ کون آ رہا ہے؟"
اس نے بے یقینی سے پوچھا۔ اسے خیال ہوا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔
"بہرام آ رہا ہے۔"
ان کی بات سنتے ہی اس کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اٹھا۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھتے ہی سیدھا دادی کے گلے میں بانہیں ڈال کر انہیں پیار کرنے لگی۔
"ارے ارے، بس کرو۔"
دادی کو اسی ردِعمل کی امید تھی اس سے۔
انہوں نے ایلیف کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
---
"ایلیف، رو کیوں رہی ہو؟"
بہرام نے اسے روتے دیکھ کر پوچھا تو وہ اور رونے لگی۔
"مجھے بتاؤ تو کیا ہوا ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ اور یہ چوٹ کیسے لگی ہے تمہیں ہاتھ پر؟"
بہرام نے اس کے ہاتھوں پر موجود خراشیں دیکھتے ہوئے پوچھا، جن میں سے خون کی ہلکی بوندیں نمایاں ہو رہی تھیں۔
"تم جانتی ہو، تمہارے کھانا نہ کھانے پر ماما کتنی پریشان ہو رہی تھیں۔"
ایلیف گھٹنوں میں سر دیے روئے جا رہی تھی۔ وہ کئی گھنٹوں سے یوں ہی رو رہی تھی۔
"ایلیف۔۔۔"
بہرام کے دوبارہ بلانے پر اس نے گھٹنوں میں سے سر باہر نکالا۔
"یار۔۔۔"
ایلیف کی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر بہرام کے دل میں چبھن ہوئی۔ اس نے انتہائی نرمی سے اپنے انگوٹھے کی پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے۔
"مجھ...ے کچے آم۔۔۔ آہ۔۔۔ کھانے۔۔۔ کا دل۔۔۔ آہ۔۔۔ چاہ۔۔۔ رہا تھا۔۔۔ میں نے۔۔۔ سفیان۔۔۔ آہ۔۔۔ انکل کے۔۔۔ درخت پر۔۔۔ پتھر۔۔۔ مار کر۔۔۔ آم توڑنے کی۔۔۔ کوشش کی۔۔۔ تو۔۔۔ انہوں نے مجھے۔۔۔ بہت ڈانٹا۔۔۔"
وہ ہچکیاں لیتے ہوئے اپنی غم کی داستان اسے سنا گئی۔
"اچھا، ٹھیک ہے۔ کوئی بات نہیں، تم رو نہیں۔"
اس نے انتہائی نرمی سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھے نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی۔ اس نے اس کا سر بیڈ کے ساتھ ٹکا دیا۔
---
شام میں ایلیف ڈرائنگ میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
"آ جائیں۔"
ایلیف کے اجازت دیتے ہی کمرے میں بہرام اپنے ننھے ہاتھوں میں ایک چھوٹے سے شاپر میں موجود کچھ کچے آم لیے آیا۔
اس کے ہاتھوں میں کچے آموں کا شاپر دیکھ کر ایلیف نے لپک کر اس کے ہاتھوں سے وہ شاپر لے لیا۔
"یہ میرے لیے ہے؟"
اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا۔
"ہاں۔"
بہرام نے مسکراتے ہوئے اسے جواب دیا۔
"بہرام، تمہارا بہت شکریہ۔"
اس کا چہرہ تو جیسے کھل اٹھا تھا۔
وہ وہیں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی اور ایک کے بعد ایک آم کھانے لگی، اور بہرام بس اسے کھڑا دیکھتا رہا۔
---
کچھ دنوں بعد بہرام ایک چھوٹا سا گملا لیے ایلیف کے پاس آیا۔
"ایلیف، یہ دیکھو۔"
ایلیف گملے میں موجود چھوٹے سے پودے کو دیکھنے لگی۔
"یہ کیا ہے؟"
"یہ میں نے آم کی گٹھلی لگائی تھی۔ اس میں دیکھو، اس میں سے یہ پودا نکلا ہے۔ یہ کچھ وقت بعد درخت بن جائے گا۔ تمہیں آم پسند ہیں نا؟ میں اسے یہاں لگاؤں گا۔"
اس نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
آج ایلیف اسی آم کے درخت کو، جو گارڈن میں لگا تھا، دیکھ رہی تھی۔
وہ درخت بہرام نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔
اس کے لیے۔
---
"باجی، ایلیف باجی سے میں نے گارڈن کی دیکھ بھال اپنے ذمے لینے کو کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔"
گھر کی ملازمہ مہرو نے دادی سے شکایت کرتے ہوئے کہا۔
دادی نے چند لمحے خاموش رہ کر مہرو کی طرف دیکھا۔
"اس نے منع کر دیا؟"
"جی، باجی۔"
دادی کی نظروں کے سامنے جیسے ماضی کا کوئی منظر آ ٹھہرا۔
"وہ گارڈن اس کے لیے بہت قیمتی ہے، مہرو۔"
"کیا مطلب، باجی؟"
مہرو نے حیرت سے پوچھا۔
"یہ گارڈن دس سال پہلے بہرام نے اس کے لیے بنایا تھا۔ اس گارڈن میں موجود ہر پودا اسے بہرام کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ میں نے ہمیشہ ایلیف کو سب سے زیادہ پُرسکون انہی پودوں کے درمیان، اس آم کے درخت کے پاس دیکھا ہے۔"
دادی کی آواز میں ماضی کی ایک ہلکی سی پرچھائی اتر آئی۔
"مجھے یاد ہے جب یہ گارڈن بنا رہے تھے۔ بہرام انتہائی نفاست سے اپنا کام کرتا تھا، جبکہ ایلیف لاپروائی کے ساتھ ادھر اُدھر گھومتی رہتی تھی۔ کبھی اس کے ہاتھ مٹی سے بھر جاتے، کبھی وہ پودوں کو اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر کر دیتی۔"
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
"اور بہرام ہمیشہ اس کے مٹی سے بھرے ہاتھ اپنی شرٹ سے صاف کرتا تھا۔"
کچھ لمحوں کے لیے دادی خاموش رہیں۔
"وہ گارڈن بہرام کی طرف سے ملنے والا ایک تحفہ تھا ایلیف کو۔۔۔ اور یہ ایلیف کی محبت تھی جس نے دس سالوں میں ایک بار بھی اسے اس گارڈن کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہیں کرنے دی۔"
---
بہرام نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی مخملی ڈبیا نکالی۔
اس نے ڈبیا کھولی تو اندر موجود انتہائی خوبصورت ہیرے کی انگوٹھی پر اس کی نظریں ٹھہر گئیں۔
انگوٹھی کے عین درمیان ایک بڑا سا ہیرا جڑا ہوا تھا، جبکہ اس کے دونوں اطراف نسبتاً چھوٹے دو ہیرے نہایت نفاست سے جڑے تھے۔ تینوں ہیروں کی چمک اسے بےحد دلکش بنا رہی تھی۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اس انگوٹھی کو دیکھتا رہا۔
پھر وہ بیڈ سے اٹھا اور کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
چاند اپنے جوبن پر تھا۔
اس کے دل میں موجود جذبات ناقابلِ بیان تھے۔ ایلیف سے منسوب ہر لمحے کو یاد کرتے ہوئے اس کا چہرہ کھل اٹھتا تھا۔
دوسری طرف، ایلیف بھی اسی چاند پر نظریں ٹکائے بہرام کی یادوں کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
وہ محبت جو اتنے لمبے عرصے سے دل کے کسی کونے میں خاموش بیٹھی تھی، آج وہ خاموشی کا بند توڑ کر تہلکہ مچا رہی تھی۔
Comments
Post a Comment