ٹاور آف سائلنس Episode No 2
عبادت گاہ میں جلتی مقدس آگ کی روشنی مدام کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اردگرد کی خاموشی میں دعاؤں کی دھیمی آوازیں مدھم پڑ چکی تھیں۔ مدام کچھ دیر سے دستورجی کے سامنے بیٹھی تھی۔ آخرکار اس نے ہمت کر کے کہا، "دستورجی... مجھے ایک بات پوچھنی ہے۔" انہوں نے اپنی نظریں اس کی طرف اٹھائیں۔ "ہاں، کہو۔" مدام نے اپنے ہاتھوں کو آپس میں بھینچ لیا۔ "مجھے سکون نہیں ملتا۔" "کیوں؟" "مجھے خود نہیں معلوم۔" وہ چند لمحے خاموش رہی۔ "میں بلاوجہ پریشان رہتی ہوں... اداس۔ کبھی کبھی سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے، پھر بھی دل جیسے کسی انجانے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔" دستورجی نے ہلکا سا سر ہلایا۔ "یہ تو آج کل سب کے ساتھ ہے۔ زندگی میں پریشانیاں آتی رہتی ہیں۔" مدام نے ان کی طرف دیکھا۔ "لیکن میرے ساتھ کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ کبھی اچانک میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے... ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے ابھی کچھ برا ہونے والا ہے۔" دستورجی نے بے فکری سے کہا، "تم شاید زیادہ سوچتی ہو۔" "نہیں..." مدام کی آواز میں...