Posts

Showing posts from August, 2026

ٹاور آف سائلنس Episode No 2

عبادت گاہ میں جلتی مقدس آگ کی روشنی مدام کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اردگرد  کی خاموشی میں دعاؤں کی دھیمی آوازیں مدھم پڑ چکی تھیں۔ مدام کچھ دیر سے دستورجی کے سامنے بیٹھی تھی۔ آخرکار اس نے ہمت کر کے کہا، "دستورجی... مجھے ایک بات پوچھنی ہے۔" انہوں نے اپنی نظریں اس کی طرف اٹھائیں۔ "ہاں، کہو۔" مدام نے اپنے ہاتھوں کو آپس میں بھینچ لیا۔ "مجھے سکون نہیں ملتا۔" "کیوں؟" "مجھے خود نہیں معلوم۔" وہ چند لمحے خاموش رہی۔ "میں بلاوجہ پریشان رہتی ہوں... اداس۔ کبھی کبھی سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے، پھر بھی دل جیسے کسی انجانے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔" دستورجی نے ہلکا سا سر ہلایا۔ "یہ تو آج کل سب کے ساتھ ہے۔ زندگی میں پریشانیاں آتی رہتی ہیں۔" مدام نے ان کی طرف دیکھا۔ "لیکن میرے ساتھ کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ کبھی اچانک میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے... ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے ابھی کچھ برا ہونے والا ہے۔" دستورجی نے بے فکری سے کہا، "تم شاید زیادہ سوچتی ہو۔" "نہیں..." مدام کی آواز میں...

ٹاور آف سائلنس Episode No 1

  آج قبرستان سے گزرتے ہوئے اسے عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے وہاں خاموش قبروں کے درمیان اس کے اندر مچتا شور کچھ دیر کے لیے تھم گیا ہو۔ وہ بھاری قدموں کے ساتھ اپنے گھر تک پہنچی تھی۔ کمرے میں آتے ہی وہ منہ کے بل بیڈ پر گری۔ قریب ہاتھ مار کر ایک تکیہ اٹھایا اور اپنے چہرے پر رکھ لیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں۔ --- "پاپا، پاکستان کے لیے تیاری ہو گئی ہے؟" شرین نے پُرجوش لہجے میں فرحان سے پوچھا۔ "ہاں، بس مکمل ہے۔" "پاپا، مجھے تو بہت زیادہ ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے۔" "اچھا، ایسا ہے؟" "جی، کتنے سال ہو گئے ہیں دادی جان اور ایلیف سے ملے۔" "یہ تو ہے۔" فرحان نے شرین کی اس بات پر اتفاق کیا تھا۔ "Good morning!" بہرام نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ "Good morning۔" نازمین، جو میز پر کھانا رکھ رہی تھی، بہرام کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولی، "تم رات میں سوئے نہیں، بہرام؟" ان کے سوال پر بہرام کچھ بولتا ہی کہ شرین بول پڑی۔ "ماما، کیسی بات کر رہی ہیں آپ؟...